دبئی، 17؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اسلام کے شرعی معیارات کی روشنی میں تیار کی جانے خوراک جسے عرف عام میں حلال فوڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ،امریکہ میں نہایت تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم اقوام کے پیروکاروں کی بڑی تعداد بھی ہلال فوڈ کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ اس طرح امریکہ میں ہرسال بیس ارب ڈالر مالیت کی حلال فوڈ کی تجارت کی جاتی ہے۔ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حلال فوڈ کا استعمال امریکہ میں مقیم صرف تیس لاکھ مسلمان ہی نہیں کرتے بلکہ دوسرے مذاہب اور اقوام کے لوگ بھی حلال فوڈ کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں۔امریکہ میں حلال کھانے کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک سال قبل تک شاہد امان اللہ نامی ایک تاجر کے حلال فوڈ کے مراکز کی تعداد 200تھی۔ ایک سال میں ان کی تعداد بڑھ کر 7600تک جا پہنچی ہے۔ امان اللہ نے 1998 میں حلال فوڈ کے سینٹروں کی رہ نمائی کے لیے ایک ویب سائٹ بھی لانچ کی تھی۔ اس کاکہنا ہے کہ حلال فوڈ ثقافتی رابطہ کاری کا بھی ذریعہ بن چکی ہے۔ لوگ اسلام کے شرعی معیارات کے مطابق تیار کردہ خوراک کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔پچھلے ایک سال کے دوران امریکہ میں حلال فوڈ کے مراکز پر 20ارب ڈالر کا کاروبار کیا گیا۔ رواں سال ہونے والے حلال کاروبار میں 30فی صد کا اضافہ ہوا ہے جس نے گذشتہ 6سالوں کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ اگست 2015 کے دوران Nielsenنامی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں موجود حلال فوڈ کے مراکز پر 1.9ارب ڈالر کا کاروبار ہوا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حلال فوڈ کے فروغ اور اس کی مقبولیت کے باوجود امریکہ میں مسلمان آبادی کے لیے حالات اب بھی تنگ ہیں۔ اگرچہ 2050 تک امریکہ میں مسلمان آبادی کی تعداد کی توقع 80لاکھ لگائی گئی ہے۔امریکہ میں حلال فوڈ کے کاروبار کے فروغ کو حوصلہ افزا خیال کیا جا رہا ہے مگر اس کے باوجود حلال فوڈ کی عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کو امریکا میں جگہ بنانے میں وقت لگے گا۔ حلال فوڈ کی پیکنگ کرنے والی عالمی کمپنیوں میں Mondelezسر فہرست ہے مگر اس کا نیٹ ورک سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے مسلم اکثریتی ملکوں تک محدود ہے۔ امریکہ اور مغربی ملکوں میں اس کی حلال مصنوعات بہت کم پہنچ پاتی ہیں۔نیسلے کمپنی کے دنیا بھر میں حلال فوڈ کی تیاری کے 151کارخانے کام کررہے ہیں۔ ان میں اس کمپنی کا بھی زیادہ تر کاروبار ملیشیا اور پاکستان تک محدود ہے۔ البتہ کچھ عرصے سے نیسلے نے امریکہ یورپ میں اپنے مراکز قائم کیے ہیں۔